ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / قدامت پسند امریکی سیاسی کارکن فلس شلافلی انتقال کر گئی

قدامت پسند امریکی سیاسی کارکن فلس شلافلی انتقال کر گئی

Tue, 06 Sep 2016 16:42:47    S.O. News Service

نیویارک،6؍ستمبر(ایس ا و نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکہ کی ایک قدامت پسند سرگرم کارکن اور تحریک نسواں کی مخالف فلس شلافلی 92سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ان کے بیٹے جان شلافلی نے بتایا کہ پیر کو فلس کی وفات سینٹ لوئیس میں واقع ان کے گھر میں ہوئی اور وہ سرطان کی مرض میں مبتلا تھیں۔فلس نے 1970کی دہائی میں تَن تَنہا مساوی حقوق سے متعلق ایک مجوزہ آئینی ترمیم کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا اور بعد کے آنے والے کئی عشروں تک ریپبلکن پارٹی کو دائیں بازو کی جماعت بنانے میں ان کا ایک کردار رہا ہے۔فلس جو تحریک نسواں مخالف خاتون اول کے نام سے معروف تھیں، پہلی بار 1964میں اس وقت قومی منظر نامے پر آئیں جب انہوں نے اپنی کتاب ’’اے چوائس ناٹ ان ایکو‘‘ یعنی یہ باز گشت نہیں پسند ہے کو خود شائع کیا۔ یہ کتاب بعد میں انتہائی قدامت پسند طرز کی سیاسی سوچ کا منشور بن گئی۔اس کتاب کی تین لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ اس میں ریپبلکن نیشنل کنونشن کی تاریخ کو بھی رقم کیا گیا ہے۔ ایریزونا سے تعلق رکھنے والے قدامت پسند سینیڑ بیر گولڈ واٹر کی 1964میں ریپبلکن جماعت کی طرف سے بطور صدارتی نامزدگی جیتنے کی ایک وجہ اسی کو قرار دیا جاتا ہے۔بعدازاں فلس نے مساوی حقوق سے متعلق ایک مجوزہ آئینی ترمیم کی مخالفت کرنے والوں کی قیادت کی جس مجوزہ آئینی ترمیم میں جنس سے قطع ں ظر مساوی حقوق تجویز کیے گئے تھے۔ فلس کا موقف تھا کہ اس اقدام سے روایتی خاندان کا خاتمہ ہو جائے گا۔تاہم اس اقدام کے حامیوں کو موقف تھا کہ اس مجوزہ ترمیم کے تحت ایسی قانونی سازی کی ضرورت ہو گی جس کے تحت بچوں کے لیے امداد اور روزگار کے مواقع کا تعین بغیر جنس کی تخصیص کے کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا تھا کہ ان کا سب سے بڑا ورثہ ’’ایگل فورم‘‘ہے جس کی بنیاد انہوں نے 1972میں رکھی تھی۔ انتہائی قدامت پسند تصور کیے جانے والے اس گروپ کی کئی ریاستوں میں شاخیں قائم ہیں اور اس گروپ کا دعویٰ ہے کہ اس کے ارکان کی تعداد اسی ہزار ہے۔


Share: